بنگلورو،15؍جون(ایس او نیوز) ریاستی محکمۂ اقلیتی بہبود کی طرف سے مسابقتی امتحانات میں تربیت کیلئے کئے گئے انتظامات اور مختلف اسکیموں کے ذریعہ امیدواروں کو مہیا کرائی گئی سہولیات کے نتیجہ میں امسال کرناٹک سے دو مسلم آئی اے ایس افسران اور دو سیول ججس ، بارہ کے اے ایس افسران منتخب ہوئے ہیں ، جو کہ اپنے آپ میں ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔ یہ بات آج سابق وزیر ڈاکٹر قمر الاسلام نے کہی۔
اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بحیثیت وزیر برائے اقلیتی بہبود انہوں نے ان اسکیموں کی شروعات کی تھی، پچھلے انتخابی منشور میں کانگریس نے اقلیتوں سے جو وعدے کئے تھے ان سے ہٹ کر جو اسکیمیں شروع کی گئی تھیں ان میں بدائی ( شادی بھاگیہ) ، ائمہ وموذنین کو ہدیہ کی ادائیگی ، وزیر اعلیٰ اقلیتی ترقیاتی فنڈ کا قیام ، ضلع اور تعلقہ سطح پر سرسید احمد خان مراکز کا قیام اور اسکالر شپ اسکیمیں ۔انہی اسکیموں کے تحت مسابقتی امتحانات میں حصہ لینے والے طلبا کو ترغیب دینے کیلئے ریاستی حکومت نے دوران تعلیم ان کی تعلیم اور قیام وطعام کے مکمل خرچ کو برداشت کرنے کی اسکیم وضع کی۔
بنگلور ، حیدرآباد اور دہلی کے معروف اداروں میں ان طلبا نے مسابقتی امتحان کی تربیت حاصل کی ، دہلی میں مقیم طلبا کیلئے ماہانہ 13ہزار روپے ، بنگلور اور حیدرآباد کیلئے 10ہزار روپے ماہانہ ادا کرنے کی اسکیم شروع کی گئی۔ انہوں نے کہاکہ ان ترغیبی اسکیموں کے نتیجہ میں امسال آئی اے ایس امتحان میں ملک بھر کے 1059 طلبا میں سے کرناٹک کے دو مسلم طلبا کامیاب ہوئے ہیں۔ حیدرآباد ۔کرناٹک علاقہ میں پہلی بار ایک مسلم آئی اے ایس آفیسر شیخ تنویر آصف کامیاب ہوپائے ہیں۔ آزادی کے بعد سے اس علاقہ میں یہ نوجوان پہلا مسلمان ہے جو آئی اے ایس آفیسر بن پایا ہے، اس کے علاوہ ریاست کی ایک اور خاتون جبین فاطمہ بھی آئی اے ایس کیلئے منتخب ہوئی ہیں۔ رفیق احمد اور کے شمیدہ کا بطور سیول جج انتخاب ہوا ہے۔ جبکہ بارہ افسران کے اے ایس آفیسر بنے ہیں۔
قمر الاسلام نے کہاکہ شیخ تنویر آصف جو قومی سطح پر آئی اے ایس رینکنگ میں 25ویں نمبر پر آئے ہیں ان کا تعلق گلبرگہ سے ہے اور ان کے اسمبلی حلقہ گلبرگہ نارتھ سے آتے ہیں۔ اس نوجوان کی تعلیم بھی انہی کی طرف سے چلائی جارہی اسکول نور افضل ایجوکیشنل اینڈ چاریٹبل ٹرسٹ میں ہوئی تھی۔ انہوں نے کہاکہ محکمۂ اقلیتی بہبود نے اس کے علاوہ ان کے دور میں بیرون ملکی تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند طلبا کیلئے بھی مالی امداد کا انتظام کیااس کے نتیجہ میں ریاست بھر کے 357 مسلم طلبا مختلف کورسوں کیلئے بیرون ممالک کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں زیر تعلیم ہیں۔